Mistake se Hero 🙂💅🏐

 


ہمارے کالج میں سپورٹ ڈے صرف کھیل کا دن نہیں ہوتا تھا، وہ پورے کالج کا ایک لائیو ڈرامہ ہوتا تھا۔

کوئی دوڑ رہا ہوتا، کوئی چلا رہا ہوتا، 

اور کوئی ہم جیسا۔۔۔ بس حادثے کر رہا ہوتا تھا۔ 😭😑🙂


یہ واقعہ بھی اسی دن کا ہے۔🤣😭😭


غلطی سے ہیرو۔🫸🏻🙂


کالج میں اس دن سپورٹ ڈے تھا۔ آدھی لڑکیاں گراونڈ میں دوڑ رہی تھیں، آدھی کینٹین کے چکر لگا رہی تھیں، اور باقی وہ تھیں جو کلاس میں لیکچر سننے سے ڈرتی تھیں، اس لیے سپورٹ جوائن کر کے زندگی کی ذمہ داری پوری کر رہی تھیں۔


میں زمین پر بیٹھی نیٹ بال کو انگلیوں پر گھماتے ہوئے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے پوری ٹیم کی کپتان میں ہی ہوں۔ اتنے میں نور آگئی۔ کرکٹ اور والی بال کی کھلاڑی۔ لیکن اس کے ہاتھ میں نہ بیٹ تھا نہ والی بال۔۔۔ بلکہ ہینڈ بال۔


"آ جا منزہ! ہینڈ بال کھیلتے ہیں۔ تو گول کرے گی، میں روکوں گی۔"


" اوہ ایسا ہے کیا! چل ٹھیک ہے۔"

میں جمپ مار کر کھڑی ہوئی۔


نور گول پوسٹ کے سامنے کھڑی ہوگئی اور میں

 D لائن سے باہر۔

ہاتھ میں بال۔

روانی میں اٹیٹیُوڈ۔


اور ہوا میں "پلیئر کی ہلکی سی انا۔"

ابھی میں نے قدم اٹھایا ہی تھا کہ رضوانہ آگئی، نیٹ بال کی کپتان۔


"واہ! میں بھی کھیلوں گی!"


"تو رہنے دے، پہلے ہمیں کھیلنے دے۔"

نور نے اسے گھورتے ہوئے کہا اور مجھے آنکھ ماری۔


اسی لمحے ایک اور کردار اس سین میں داخل ہوا۔

نادیہ۔

ماشاءاللہ۔۔۔ صحت مند۔۔۔ گول مٹول۔ پیاری سی۔۔۔اور شوق میں سپورٹ جوائن کر چکی تھی۔


"میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ تم گول کر سکتی ہو یا نہیں۔۔۔ اور نور روک سکتی ہے یا نہیں۔"

نادیہ بڑی معصوم سنجیدگی سے بولی اور جا کر گول پوسٹ کے پلر کے بالکل ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی۔


میری قسمت بھی اسی پلر کی طرح میری زندگی کے ہر سین میں ساتھ کھڑی رہتی ہے۔


میں چار قدم پیچھے ہٹی۔

رفتار پکڑی۔

جمپ لگائی۔

اور پورے وجود کی طاقت ہاتھ میں جمع ہو گئی۔


پتہ نہیں اللہ نے اتنی طاقت لڑکی بنا کر کیوں دے دی تھی۔

 😭🌚


بال فضا میں تیر بن کر نکلی۔ نور سٹائل میں کھڑی تھی۔ میری رفتار دیکھتے ہی سائیڈ پر ہو گئی۔

اور بال؟

بال سیدھی نادیہ کے گال پر۔


ایسے جیسے کسی نے 

"Target Locked" 

لکھ کر فائر کیا ہو۔

 😭🤣

گول بھی ہوگیا۔

اور نادیہ کا حادثہ بھی۔


رضوانہ اور نور کے ہوش اڑ گئے۔

میں خود سن ہو گئی۔

پھر دوڑی۔۔۔ اسے سہارا دیا۔۔۔ تینوں نے۔۔پھر پانی پلایا۔ بے چاری کے آنسو تک نکل آئے۔ شاید ہم نے کئیر زیادہ کر لی تھی یا شاید اس کے گال پر ابھی بھی بال محسوس ہو رہی تھی۔


گال سرخ۔ 

جذبات بھاری اور منظر پورا

 cinematic۔


"جا منزہ۔۔۔ میں نے تمہیں معاف کیا۔"

وہ ہنستے ہوئے بولی یا روتے ہوئے۔۔۔ میں سمجھ نہیں سکی۔


"چل دوبارہ کرتے ہیں! اس بار میں نہیں ہٹوں گی۔"

نور نے چمک کر کہا۔


ہم دونوں پھر سے

 position پر۔

رضوانہ پیچھے نادیہ کو دلاسہ دے رہی تھی۔ 

" سب ٹھیک ہے۔۔۔ چپ کر جاو۔۔۔اس نے جان کر نہیں کیا۔" 


اس بار میں نے ڈبل پاور لگائی تھی۔ اور اس بار؟ نور پھر سے ہٹ گئی۔ اور بال؟


دوبارہ نادیہ کے اسی گال پر۔

اسی جگہ۔اسی شدت کے ساتھ۔

 😭💀🌚


"ہم نکل رہے ہیں۔۔۔ ورنہ تیسرا گول ہوا تو نادیہ ہمیں خود بال بنا دے گی۔"

نور نے کہا اور ہم دونوں ہی کسی جن طرح غائب ہوئیں۔


اگلے دن جب میں کالج میں داخل ہوئی تو سامنے نادیہ کھڑی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی ڈر گئی۔ اگلے سیکنڈ الٹے پیر بھاگی۔


"آج کے بعد کبھی تمہیں ہلکا نہیں سمجھوں گی!"

 😭🔥

Comments

  1. 😭🤝
    Mujhy bhool gai na tu
    Or mention bhi nhi kiyaaa Mai bhi Wohi thi 🙂🤣

    ReplyDelete
  2. ₩₳Ⱨ ₭ł₳ ฿₳₮ Ⱨ₳ ₲

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts